پھر میں نے مانوی بھابھی کو اپنے جسم کو پلٹنے اور پیٹھ کے بل چت لیٹنے کا کہا۔ اُس نے خاموشی سے بغیر کسی احتجاج یا ہچکچائے اپنے جسم کو پلٹا اور پیٹھ کے بل چت لیٹ گئی۔
میں نے ان کے جسم کا باغور گہری نظروں سے مشاہدہ کیا۔ اس کے 38 سائز کے بڑے بڑے ممے تھے، نہ تو مکمل طور پر سخت تھے اور نہ ہی بہت زیادہ لٹکے یا ڈھلکے ہوئے تھے۔ ان پر بڑے بڑے بھورے رنگ کے گول سخت ہو چکے نپلز چمن کے رس بھرے انگوروں کی طرح مجھے للچا رہے تھے۔
بغلوں کے گڈھوں کے نیچے سے بالوں کی گہری جھاڑی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی گہری ناف کے ساتھ چکنا پیٹ تھا، اور کمر کے کناروں پر اضافی چربی جمع ہو گئی تھی۔ ناف کے نیچے اس کی پھدی کا علاقہ جھانٹوں کی موٹی جھاڑی سے ڈھکا ہوا تھا۔ جھانٹوں کے بالوں کے اندر پھدی کی دراڑ اور پھدی کے کناروں پربالوں کی وجہ سے بھابھی کی پھدی کے باہری ہونٹ بھی چھپے ہوئے تھے۔
اوہ مائی گاڈ!۔۔ میں نے بے اختیار انداز سے کہا اور پھر بولا۔۔مجھے لگتا ہے کہ جب آپ گرتے ہوئے پانی کے ٹب سے ٹکرائی تھیں تو آپ کے جسم کے کچھ حصوں میں ہلکی چوٹ اور خراشیں بھی لگ گئی ہیں۔ جہاں خراشوں کے نشانات ہیں، وہاں مجھے اینٹی سیپٹک مرہم لگانا ہوگا۔
بغل کے قریب نیچے اس کے دائیں پسلی کے جوڑ کے پاس ایک خراش تھی۔ میں نے وہاں مرہم لگایا، لیکن اس حصے پر مرہم لگانے کے لیے مجھے مانوی بھابھی کے بڑے دائیں ممے کی وجہ سے دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ میں نے اپنے بائیں ہاتھ سے ان کے ممے کو تھوڑا اوپر کی طرف اٹھایا اور اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے مرہم لگایا۔ مجھے اپنی بائیں ہتھیلی میں بھابھی کے نرم، گوشت دار، اسپنجی ممے کو پکڑ کر مزا آیا۔ مانوی بھابھی کے جسم میں بھی اس سے بجلی کا کرنٹ دوڑ گیا۔
پھر میں نے کافی دیر تک ان کے بوبز کے نیچے مرہم کی مالش جاری رکھی تاکہ میں اپنی بائیں ہتھیلی میں مانوی بھابھی کے ممے کو اچھی طرح سے محسوس کر سکوں۔ میرے ہاتھ میں ان کا نپل بہت سخت کڑک ہوگیا جو مجھے صاف محسوس ہوا۔ میرے چھونے، نپلز کو چھیڑنے، اور مرہم لگانے سے بھابھی آہستہ آہستہ شہوت سے کراہنے لگی۔
پھر میں نے کہا۔۔مانوی بھابھی، آپ کے بدن پر ایک اور چوٹ ہے، خاص طور پر اس جگہ جہاں سے آپ کی ٹانگیں شروع ہوتی ہیں، میرا مطلب ہے آپ کے پیٹ کے بالکل نیچے، آپ کی ران کے جوڑ کے قریب میں۔
مانوی بھابھی نے شرم کی وجہ سے کچھ بھی جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنی شہادت کی انگلی میں کچھ مرہم لگایا اور رانوں کے جوڑ کے علاقے (پھدی کے صوبے) پر لگانے کے لیے آگے بڑھا، جو اس کے پیٹ کے بالکل نیچے، جھانٹوں کے درمیان چھپا ہوا تھا، جو گھنی جھاڑی دار گھنگریالے بالوں سے بھرا ہوا تھا۔
میں نے کہا۔۔ مانوی بھابھی، جہاں آپ کو چوٹ لگی ہے وہ جگہ بالوں سے بھرا ہوا ہے۔ جب تک آپ ٹھیک نہیں ہو جاتیں، تب تک آپ اسے مکمل طور پر صاف مت کریں کیونکہ اس سے آپ کا زخم خراب ہوسکتا ہے، لیکن آپ کو اسے اکثر تراشنا ہوگا تاکہ دوا صحیح جگہ پر مناسب مقدار میں لگتی رہے۔ میں آپ کو اس کے لیے ایک چھوٹی قینچی دوں گا۔”
یہ سن کر مانوی بھابھی شرمندگی کے مارے چپ ہی رہی کچھ نہ بولی ۔ اپنے بائیں ہاتھ سے، میں نے بھابھی کے جھانٹوں کے ریشمی گھنگریالے بالوں کو احتیاط سے چھوا اور بالوں کو اس طرح الگ کیا کہ بال متاثرہ جگہ سے دور ہو گئے۔ میری دائیں شہادت کی انگلی اینٹی سیپٹک مرہم سے بھیگی تھی، میں نے شہادت کی انگلی کو اس طرح اس کے خراش والے حصے پر رکھا کہ میرا انگوٹھا اس کی چوت کے دروازے کو چھو گیا۔
بھابھی کی “آہ” نکلی۔
میں نے اینٹی سیپٹک کریم کی مالش کے لیے اپنی شہادت کی انگلی کو چوٹ والی جگہ پر دبایاتو ساتھ ساتھ میرا انگوٹھا اس کی چوت پر دباؤ ڈالنے لگا اور انگوٹھا تھوڑا سا اندربھی گھس گیا۔
آہہہہہہہ۔۔ اب اس نے زور سے آہ بھری
میں نے پھر سے اپنی شہادت کی انگلی کو زور سے دبایا اور اپنا انگوٹھا اس کی چوت پر ٹکا دیا، اور اس بار میرا انگوٹھا اور زیادہ اندر چلا گیا۔
آہہہہہہہہ۔۔ بھابھی کی پھر سے کراہ نکلی اور ساتھ ہی اُس کے جسم نے بھی لرز کر مزے اور پسندیدگی کا اشارہ دیا۔
میں نے محسوس کیا کہ اس کی پھدی بہت گیلی ہوچکی تھی، اور میں نے اپنے اس عمل کو کچھ دیر تک جاری رکھا۔ پھر میں نے بھابھی کے ردعمل کو دیکھنے کے لیئے اپنا انگوٹھا اندر ڈالنا بند کر دیا۔کیونکہ اب میں اس کی پھدی کے اندر بہتر رسائی چاہتا تھا۔ بھابھی نے یہ جاننے کے لیے اپنا سر اٹھایا کہ میں کیوں رکا، اور جیسے ہی اس نے دیکھا کہ میں اٹھ رہا ہوں تو مانوی بھابھی نے کہا۔
کاکا، میری ٹانگوں میں بھی درد ہو رہا ہے۔۔مانوی بھابھی نے دھیرے سے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا
اب بھابھی شرم کے مارے یہ تو نہ کہہ سکیں کہ آپ رک کیوں گئے، لیکن انہوں نے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ تو کر ہی دیا تھا۔
فکر نہ کرو، میں اب اس کا علاج کرنے والا ہوں۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
میں نے ان کی ٹانگوں کو تقریباً 25 سے 26 انچ تک کھول کر ایک دوسرے سے دور کیا اور اس کے پیروں کے درمیان بیٹھ گیا۔ جیسے ہی اس نے مجھے اپنے پیروں کے درمیان بیٹھتے دیکھا، اس نے شرم کے مارے اپنا ہاتھ اپنے پھدی کے علاقے پر رکھ لیا۔ میں نے ایک وقت میں ایک ٹانگ کی مالش جاری رکھی، پھر باری باری دونوں ٹانگوں کی مالش کرتا رہا۔
میں نے بھابھی سے پوچھا۔۔آپ کو اب کیسا لگ رہا ہے؟
بھابھی بولی۔۔آپ کی مالش نے جادو جیسا اثر کیا ہے۔ اب درد تقریباً غائب ہو رہا ہے۔
میں نے کہا۔۔ بس تھوڑی دیر اور، پھر آپ بہت بہتر محسوس کریں گی۔
میں نے مالش جاری رکھی۔اور جیسے ہی میں اس کی اوپری ران پر پہنچا، میں نے اپنا انگوٹھا سیدھا رکھا تاکہ وہ اس کی پھدی کو چھو جائے، اور اسے کچھ سیکنڈ تک وہیں رکھا، پھر اپنے ہاتھ اس کے گھٹنوں تک لایا اور پھر سے اوپر لے گیا۔ یہ دیکھ کر وہ مطمئن ہو گئی کہ ابھی میں مالش ہی کر رہا ہوں اور اپنا ہاتھ پھدی والے علاقے سے خود ہی ہٹا کر کنارے لے گئی۔
اگلی بار جب میرا ہاتھ اوپر گیا، مجھے پتا تھا کہ اب میرا نشانہ کہاں ہے، کیونکہ اب میں اس کی پھدی کے ہونٹ دیکھ سکتا تھا۔ میں نے اپنا انگوٹھا پھر سے سیدھا رکھا اور اس کی پھدی کے ہونٹوں کی دراڑ کو نشانہ بنایا۔ جیسے ہی اس بار میرا انگوٹھا پھدی کے ہونٹوں کو چھوا، بھابھی کی زور دار کراہ نکلی۔
آہہہہہہہہہہہہہ ۔۔ وہ لرزتے ہئے زور زور سے ہانپنے لگی