راس لیلا 14

0

 

مانوی بھابھی، اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو کیا آپ مجھے ایک کپ کافی دے سکتی ہیں؟۔۔ میں نے درخواست کی۔ 

کاکا، اس میں تکلیف کی کیا بات ہے، مجھے تو اس میں خوشی ہوگی، ابھی لیجیے۔ ایک منٹ، میں آپ کے لیے کافی تیار کر دیتی ہوں۔ ویسےبھی میں ابھی نہانے کے لیے باتھ روم جا رہی تھی۔۔ مانوی نے میٹھی آواز میں جواب دیا۔ 

جب وہ کچن کی طرف  گئی، میں اس کے مٹکتے ہوئے بڑے بڑے کولہوں اور گانڈ کو دیکھتا رہ گیا۔ اس کی ساڑھی کا ایک حصہ اس کی گانڈ کی دراڑ میں کس کر گھسا  ہوا تھا، اور اس کی بڑی گانڈ مجھے نمایاں طور پر دکھائی دے رہی تھی، جس سے میرا لنڈ فوراً کھڑا ہو گیا۔ 

مجھے کافی دینے کے بعد، مانوی نے کہا: کاکا، آپ کافی پیجیے اور مجھے نہانے میں صرف 10 منٹ لگیں گے۔ اس دوران، آپ اخبار پر نظر ڈال سکتے ہیں۔ میں بس ابھی آئی۔

 اور پھر مانوی سیکسی انداز میں ہرنی کی چال چلتے  ہوئے باتھ روم کی طرف چل پڑی۔ 

اپنی کافی ختم کرنے کے بعد، میں اخبارپڑھنے لگ  گیا۔ پھر میں نے باتھ روم کے دروازے کی چرچراہٹ کی آواز سنی، اور دیکھا کہ مانوی گیلے بالوں کے ساتھ، گیلی ساڑھی میں لپٹی، ایک موٹے تولیے سے اپنے مموں کے حصے کو ڈھانپ کر باتھ روم سے باہر آ رہی تھی۔ اس کے گیلے سر سے لے کر پاؤں تک پانی کی دھار سی بہہ رہی تھی۔ بہت سیکسی نظارہ تھا، لیکن میں نے اپنی نظر ہٹا لی، ورنہ مانوی بھابھی کو شاید برا لگتا۔ 

تبھی اس کے گیلے سر سے فرش پر گرتے پانی کی وجہ سے مانوی کا پاؤں پھسل گیا، اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ زمین پر گر گئی۔ اس کا جسم پاس رکھے پانی کے ٹب سے ٹکرایا، جس سے ٹب الٹ گیا اور پانی فرش پر پھیل گیا۔ میں نے مانوی بھابھی کی چیخ،اور  دھڑام سے گرنے کی آواز، اور پانی کے ٹب کے گرنے کی زوردار آواز سنی۔ 

میں اپنی جگہ سے اٹھا، چھلانگ لگائی، اور جہاں مانوی بھابھی گری تھی اُس  جگہ کی طرف بڑھا۔ دیکھا کہ مانوی بھابھی فرش پر چت گری ہوئی تھی۔ سر بھی فرش سے ٹکرانے سے شاید وہ بے ہوش ہو گئی تھی، لیکن وہ نارمل  سانس لے رہی تھی۔ فوراً، میں نے اس کی گیلی ساڑھی کو اس کے جسم سے ہٹا دیا، اور اسے ننگا کر کے احتیاط سے اپنی طرف گھمایا۔ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کی بغلوں کے نیچے اور دوسرا اس کی رانوں کے نیچے رکھ کر اسے ایک بچی کی طرح اپنی گود میں اٹھا لیا اور اسے اس کے بیڈ روم میں لے گیا۔ 

میں نے اسے احتیاط سے بستر پر لٹایا اور اس کے ننگے جسم کو چادر سے ڈھانپ دیا۔ کچھ لمحوں کے بعد، ایک گلاس میں  پانی لے کر میں نے اس کے چہرے پر کچھ پانی چھڑکا۔ چند سیکنڈ کے بعد، مانوی بھابھی واپس  ہوش میں آئی  اور آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں۔ 

میں بستر پر اس کے سر کے پاس بیٹھا تھا اور اس کے ماتھے پر زور سے مالش کر رہا تھا۔

اس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا، “میں کہاں ہوں؟ مجھے  کیا ہوا؟” 

آپ پھسل گئی تھیں اور گیلے فرش پر گر گئی تھیں، پھر آپ کچھ پل کے لیے بے ہوش ہو گئی تھیں۔ اچھا ہوا کہ میں وہیں تھا، ورنہ پتا نہیں آپ کتنی دیر وہاں ویسے ہی پڑی رہتیں۔ پھر میں آپ کو یہاں آپ کے بیڈ روم میں لے آیا۔ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں، اب آپ ٹھیک ہیں،” میں نے ہمدردی اور پیار بھرے لہجے میں جواب دیا۔ 

ایک لمحے کے لیے مانوی بھابھی خاموش رہیں، پھر انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن نہ اُٹھ سکیں۔ انہیں کمر کے پیچھے درد محسوس ہورہاتھا۔

اس نے درد سے کراہتے ہوئے کہا، “آہہہہہہہ… کاکا، مجھے اپنے جسم کے پچھلے حصے میں تیز درد محسوس ہو رہا ہے۔ 

میں نے فکرمند لہجے میں کہا: بھابھی رکو، اور اٹھنے کی کوشش مت کرو، میں  کچھ فرسٹ ایڈ دینے کی کوشش کرتا ہوں ۔ 

یہ کہہ کر میں بھاگ کر اپنے فلیٹ میں گیا اور فریج سے آئس کیوب ٹرے، درد کش مرہم کی ایک ٹیوب، اور ایک اینٹی سیپٹک ٹیوب لے کر واپس آیا۔ میں نے ایک تولیے میں برف لپیٹ کر آئس پیک بنایا۔ مانوی بھابھی درد سے کراہ رہی تھی، لیکن وہ مجھے شکر گزار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ 

میں نے کہا: اب بھابھی، آپ پیٹ کے بل سیدھی ہوکر لیٹ جائیں تاکہ میں اس آئس پیک کو آپ کی پیٹھ پر لگا سکوں۔ خیال رہے، 10 منٹ تک ایسا کرنے سے آپ کے درد میں کمی آئے گی، اور پھر میں درد کش مرہم لگا دوں گا، جس سے آپ کو مستقل آرام مل جائے گا۔ 

اس وقت تک مانوی بھابھی کو پتا چل چکا تھا کہ میں نے پہلے ہی ان کے کپڑے اتار دیے تھے اور میں ہی ان کے ننگے جسم کو بستر پر لے آگیا تھا۔ اور وہ اس چادر کے نیچے ننگی تھی۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی اور جھجھک محسوس کر رہی تھی۔ 

میں نے بھابھی کے چہرے کا جائزہ لیا اور ان کے جذبات کو سمجھ کر سنجیدہ لہجے میں کہا: بھابھی، ڈرنے، شرمانے، اورجھجک  کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک لمحے کے لیے، مجھے ایک ڈاکٹر سمجھیں۔ میں جو کرنے جا رہا ہوں وہ ایک ابتدائی طبی امداد ہے، جو ایک ڈاکٹر ان حالات میں درد سے فوری راحت کے لیے کرتا ہے۔ آپ تو جانتی ہیں کہ میں ڈاکٹر ہوں، اور بھابھی، ڈاکٹر سے کیسی شرم؟ 

میری پرسکون آواز سننے کے بعد، مانوی بھابھی گھومی اور پیٹ کے بل لیٹ گئی،اب اُس کی پوری پیٹھ میرے سامنے ننگی تھی۔ 

اوہ مائی گاڈ، کیا شاندار نظارہ ہے۔۔ میں نے سوچا۔۔۔ میں اپنی ہی آنکھوں پر یقین نہیں کر پا رہا تھا۔ بھابھی کا سفید جسم بہت زبردست  تھا۔ جب میں نے ان کی ساڑھی اتاری تھی اور انہیں اٹھایا تھا، تب میرا اس طرف کچھ دھیان نہیں گیا تھا کیونکہ اس وقت میری پوری توجہ بھابھی کو سنبھالنے پر تھی، لیکن اب اس نظارے نے مجھ پر جادو کر دیا۔ بھابھی کے چکنے بڑے بڑے چوتڑ تھے، جو گول اور دل کی شکل کے تھے، اور میرا دل وہیں کھو گیا تھا۔ ان کے دونوں کولہوں کے درمیان کا فاصلہ لمبا اور گہرا تھا۔ اس کی چوت کا کچھ حصہ بھی بھابھی کی گانڈ کی دراڑ کے نیچے سے نظر آ رہا تھا۔ 

آخر کار، ایک کہاوت ہے کہ ٭ایک کپ کافی پیتے یا پلاتے وقت بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ 

میں نے کہا: بھابھی، پہلے مجھے دیکھنے  دو کہ آپ کو چوٹ کتنی اور کہاں لگی ہے۔

 پھر میں نے آہستہ آہستہ بھابھی کے کندھوں سے لے کر دو دو انگلیوں کی مدد سے دباؤ دے کر اور دو دو انچ آہستہ آہستہ نیچے اپنی انگلیاں سرکاتے ہوئے چیک کیا کہ چوٹ زیادہ گہری نہیں تھی کوئی ہڈی فریکچر یا ٹوٹی ہوئی بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اُس کا بھاری جسم جس طرح سے دھڑام کرکے گرا تھا ، تو اگر کوئی ہڈی ٹوٹی نہ بھی ہوتی تو فریکچر تو ہوتی ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

 میں نے کہا: بھابھی، خوش قسمتی سے آپ کی چوٹ گہری نہیں ہے۔ اور نہ ہی کوئی ہڈی فریکچر یا ٹوٹی ہوئی ہے۔ 

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)