راس لیلا 08

0

 

میں نے آشا کے اس سادہ سے لہجے میں کہی ہوئی بات سے آشا کے درد اور محبت کو محسوس کیا۔ میں دوبارہ اس کے اوپر چڑھ گیا اور اس کے ہونٹوں پر ایک لمبی کس کی ۔ پھرمیں نے اس کے پورے چہرے  کو چوما اور چاٹا اور کہا

میں ۔۔۔صرف تم ہی نہیں، میں بھی ایک عزت دار بندہ ہوں، آشا تم نے مجھے وہ پیار دیا ہے جو صرف ایک اچھی بیوی ہی دے سکتی ہے، میں اس کے لیے تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں جلد ہی تمہاری اولاد کی خواہش پوری کروں گا، میری منی جو میں نے کئی مہینوں سے جمع کی تھی ، تمہیں جلد ہی بچہ دے گی اور تم فکر نہ کرو، میں تمہارا اور اپنے بچے کا خیال  بھی رکھوں گا ۔

یہ کہہ کر میں نے پھر سے اس کے ہونٹوں پرایک  گہری کس کی۔اس کے بعد ہمارے درمیان پھر سے چودئی  کا کھیل  شروع ہو گیا۔ اس رات ہم نے نئے شادی شدہ جوڑوں کی طرح ایک کے بعد ایک چودائی کا راؤنڈ کھیلتے  رہے۔

اگلے دن  بچوں کے اسکول میں چھٹی تھی، اس لیے میری پڑوسی مانوی اور روپالی،اپنی  فیملی کے ساتھ، آنے والے ایک ہفتے کی چھٹیوں کے لیے صبح سویرے اپنے والدین  کے گھر چلی گئیں۔ آشا اور میں نے صبح ان سب کو الوداع کیا۔

لا کاسا اپارٹمنٹس کے باقی تمام مکین بھی چھٹیاں گزارنے یا رشتہ داروں سے ملنے گئے ہوئے تھے اور چونکہ آشا کا شوہر بھی اپنی بہن کے پاس گیا ہوا تھا یہ چھٹیاں گزارنے تو وہ بھی  واپس نہیں آرہا تھا، اس لیے ہمیں پریشان کرنے والا کوئی نہیں تھا اور ہم نے تقریباً ایک ہفتے تک تنہائی میں ایک دوسرے کےجسم سے خوب لطف اٹھایا۔ ہم پورے ہفتے تقریباً ننگے ہو کر گھر میں گھومتے رہے اور گھر میں تقریباً ہر جگہ جہاں جب دل کرتا چدائی کرتے۔

 

جب چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں اور اس دن آشا کا شوہر واپس آنے والا تھا تو آشا اب واپس اپنے گھر جانا چاہتی تھی، اس لیے جانے سے پہلے میں نے اسے ایک بار پھر چودا ۔ جس کے بعد اس نے مجھے تحفے کے طور پر دی گئی ساڑھی اور زیورات پیک کر کے مجھے واپس کر دیے اور کہا ۔

آشا۔۔۔ سر، یہ اپنے پاس رکھ لیں۔ آپ  جانتے ہو کہ میں یہ نہیں لے سکتی۔

پھر میں نے اسے کچھ پیسے دینے کی کوشش کی جو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ اس پر میں نے آشا سے پوچھا کہ اُس کا کوئی بینک اکاؤنٹ نمبر ہے ،تو اُس نے کہا کہ نہیں  اس کا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے، میں نے کہا، “ٹھیک ہے، میں آپ کے شوہر کا بینک  اکاؤنٹ کھولنے میں مدد کروں گا، پھر میں نے اسے ایک الماری کی چابی دی اور کہا، “آپ یہ کپڑے، زیورات اور پیسے اس الماری میں رکھ سکتی ہو، یہ اب آپ کے پاس ہی رہے گا۔ کیونکہ  آپ کو کچھ بھی  کبھی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اورمیں آپ کی ہرخوشی کو پورا کرنے میں خوشی محسوس کروں گا۔

اُس کو جم کر چدائی کرنے کے بعد سے ابھی تک ہم دونوں ننگے ہی تھے کیونکہ زیادہ تر ہم گھر میں ننگے ہی رہتے تھے۔اور وہ میرے کندھے پر سر رکھے میرے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔

اگرچہ وہ اپنے شوہر سے ناخوش تھی لیکن اُس کا خیال بھی رکھتی تھی ، کیونکہ آخرکار اُسکا شوہرتھا۔ اس لیے اس نے کہا کہ “کیا تم میرے شوہر سونو کو نوکری دلانے میں مدد کر سکتے ہو؟”

میں ۔۔۔ آج شام تک مجھے ایک ڈرائیور کی ضرورت ہے تم اپنے شوہر کو میرے پاس بھیج دو، اُس سےبات کر کے میں تمہیں فل ٹائم ملازمہ کے طور پر رکھ لوں گا،کیونکہ  میرے پاس ایک سرونٹ روم بھی  ہے جہاں تم دونوں رہ سکو گے اور ہم بھی آسانی سے مل سکیں گے۔

آشا نے پوچھا ۔۔۔ آپ مجھے بچے کے لیے کب میڈیکل چیک آپ کے لیئے لے کرجائیں  گے؟

 تو میں نے اُس کے گرد اپنے بازو کستے ہوئے کہا۔۔۔مجھے نہیں لگتا کہ اب تمہیں کسی میڈیکل معائنے کی کوئی خاص ضرورت ہے۔ میں نے اور میرے لنڈ نے تمہارا اچھی طرح جائزہ لیا ہے، تمہارے  شوہر سونو میں ضرور کچھ کمی ہے۔

اس کے بعد میں نے آشا سے پوچھا ۔۔۔تمہاری  ماہواری کی ہوئی تھے لاسٹ ٹائم

 اس نے کہا۔۔۔ آج اس کا 13واں یا 14واں دن ہے

 تو میں نے آشا سے کہا ۔۔۔ وہ آج اور اگلے چند دنوں میں اپنے شوہر کے ساتھ ضرور ہمبستری کرے ۔

پھر  میں نے اپنا چمڑے کا بیگ کھول کر آشا کو کچھ دوائی دی اور اسے کہا۔۔۔ اس دوا کو سونو کے کھانے میں ملا دو تاکہ وہ جوش میں آجائے اور آج ضرور تمہیں چودیں، تاکہ اس کو تمہارے حاملہ ہونے پر شک نہ ہو۔

اسی شام میری گاڑی پنجاب سے میرے پاس آئی اور آشا کا شوہر بھی رات کو واپس آگیا۔ اس رات آشا نے اپنے شوہر سونو کے کھانے میں دوائی ملا دی جس کے بعد سونو نے اسے چود لیا۔

اگلی صبح آشا اور اس کے شوہر سونو میرے پاس آئے اور میں نے سونو کو گاڑی چلانے کے لیے کہا اور اس کا ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا ، تو  پتہ چلا کہ وہ ایک اچھا  ڈرائیور تھا اور اسے مرسڈیز کار کے بارے میں بھی کافی علم تھا۔ میں نے اسے نوکر کے کمرے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ کئی بار مجھے کام کے لیے رات کو دیر سے واپس آنا پڑتا ہے اور تم کو میرے ساتھ رہنا پڑے گا اور اس سے انہیں کرائے کے پیسے بچانے میں بھی مدد ملے گی۔

آشا اور سونو کرائے کے مکان میں رہتے تھے اس لیے سونو کے لیے اس پیشکش کو ٹھکرانا بہت مشکل تھا۔ میں نے سونو (آشا کے شوہر) سے پوچھا کہ کیا وہ شراب پیتا ہے، اس نے کہا سر، میں اب نہیں پیوں گا۔ تو میں نے اس سے کہا کہ اب  شراب نہ پینا  اور یقینی طور پر پینے کے بعد گاڑی نہ چلانا، ورنہ اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ اس پر سونو نے کہا کہ سر اب اس کے پاس کام ہے اس لیے وہ شراب پینا بالکل چھوڑ دے گا۔ میں نے سونو کو ایک ہنڈسم تنخواہ کی پیشکش کی۔ جسے آشا کے شوہر سونو نے بخوشی قبول کر لیا اور دونوں دوپہر کو اپنا سامان اور کپڑے وغیرہ لے آئے اور اپنا سامان سرونٹ روم  میں رکھ دیا۔ پھر میں نے گھر کے تمام کاموں کی ذمہ داری آشا کو سونپ دی اور اس کی مناسب تنخواہ مقرر کر دی جس میں کھانا پکانا بھی شامل تھا کیونکہ پہلے میں ہوٹلوں سے کھانا منگوایا کرتا تھا۔

شام تک دونوں پڑوسی گھر والے بھی واپس آگئے اور اتنی شاندار گاڑی دیکھ کر خوش ہوئے اور میں ان سب کو گاڑی میں بٹھا کر لے گیا اور سب کو  کچھ مٹھائی اور آئس کریم لے کر دیا اور  اُنہوں نے خوب  مزہ کیا۔

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)