راس لیلا 05

0

 

چونکہ میں نے خود کو پردوں میں چھپا رکھا تھا اور کمرے کا دروازہ بند تھا، اس لیے اسے لگا کہ اب باہر آنا محفوظ ہے،  وہ دھیرے دھیرے برہنہ واشروم سے باہر آئی ، اُس کا جسم   پانی سے پوری طرح سے  بھیگا ہوا تھا، اس کا قد تھوڑا چھوٹا تھا لیکن  اس کا جسم بہت  خوبصورت اور مست سیکسی جسم تھا۔اُس کے  بڑے بڑے مموں  نے فوری طور پر میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ وہ اپنے کولہوں کو ہلاتی مٹکاتی ہوئی آئی، اس کے ممے اُس کے چلنے سے ہلکورے سے لے رہے تھے،  اور میرے لنڈ پر بجلیاں گرا رہے تھے ۔ اس کی پھدی  کے ارد گرد بہت چھوٹے بال پھیلے  ہوئے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کررہے  تھے کہ اس نے دو تین  ہی دن پہلے  اپنی پھدی کی  صفائی کی ہے۔

اس کے ننگے جسم کو دیکھ کر مجھ سے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا ، اور میرا لنڈ اُچھالے مارنے لگا۔ میں نے خود صرف تولیہ لپیٹا  ہوا تھا اور نہانے کے بعد کوئی انڈرویئر تک نہیں پہنا تھا۔ میں نے دل میں سوچا۔ آشا بہت سیکسی ہے اور بہت خوبصورت ہے۔ اپنے پُرانے کپڑوں اور خود کو بے پروا بنائے رکھنے کی وجہ سے کسی توجہ اُس کی طرف نہیں جاتی۔ نہیں تو یہ تو سیکس بم ہے۔

اس نے کمرے میں پڑی اپنی پرانی ساڑھی کا استعمال کرتے ہوئے خود کو خشک کیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس نے ٹوائلٹ میں تولیہ کیوں نہیں استعمال کیا۔ پھر مجھے یاد آیا کہ یہ واشروم تو کبھی استعمال ہی نہیں ہوا تھا اور ہو سکتا ہے کہ واشروم  میں تولیا نہیں ہو۔۔یا شاید وہ میرا تولیہ استعمال کرنے سے ہچکچا رہی تھی۔ وجہ کچھ بھی ہو میں اور میرا لنڈ اس بات پر بہت خوش ہوئے  کہ واشروم  میں تولیا نہیں تھا ورنہ مجھے اس کی گدرائی ہوئی جوانی اور  خوبصورتی کو اس کے نہانے کے بعد مکمل طور پر ننگا  دیکھنے کا موقع نہ ملتا۔ بلکہ وہ تولیا لپیٹ کر باہر آتی  اور جیسے کہ عورتوں کی عادت ہے کہ تولیہ لپیٹے ہی وہ کپڑے پہنتی  اور میں اور میرا لنڈ اُتاؤلے ہی رہتے ۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا

اس کا  پرانی ساڑھی  استعمال کرتے ہوئے خود کو صاف کرنے کا نظارہ  بھی بہت خوش کن  تھا، میں اسے مسحور  ہوکر دیکھ رہا تھا۔ جلد ہی اس نے بلاؤز اٹھایا۔ جو کہ  ساڑھی کے سرخ رنگ سے مماثل ایک چولی (بلاؤز) تھا، جس کی پشت پر صرف ڈوریں باندھی جاتی تھیں۔ اس نے بلاؤز پہنا ، جو اس کے بڑے بڑے  خربوزوں  پر بالکل فٹ تھا۔ لیکن وہ بلاؤز کی ڈوری  باندھنے سے قاصر تھی۔ پھر اس نے پیٹی کوٹ پہنا اور ساڑھی کو لپیٹ لیا اور پھر اس نے میری طرف سے تحفے میں دیے گئے تمام زیورات بھی پہن لیے،  اور پھر اس نے دوبارہ ڈوری  باندھنے کی کوشش کی لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ اس نے چند بار خود کو آئینے میں دیکھا اور پھر اُس نے ہلکا سا میک آپ کیا اور اپنے رسیلے ہونٹوں پر لال لپ اسٹک لگائی۔

اس کے بعد اس نے اپنے چہرے اور سر کو ساڑھی میں ڈھانپ لیا ، ساڑھی کے پلو کے ایک سرے کو اُس نے اپنے سر پر تھوڑا آگے تک جیسے دلہن پردے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اُس طرح سے کیا لیکن اُس نے تھوڑا سا کم ہی گھونگھٹ کیا تھا۔ میں یہ سب خاموشی سے دیکھ رہا تھا اور کبھی آئینے میں اس کو دیکھنے لگ جاتا ۔

اس نے آخری بار ڈوری  باندھنے کی کوشش کی لیکن اس کے بڑے بڑے خربوزے اس کے ساتھ ڈوری  باندھنے میں تعاون نہیں کر رہے تھے۔ تو وہ دروازے پر آئی۔

اور دروازے کی طرف پلٹ کر بولی۔۔۔ سر مہربانی کر کے یہ بلاؤز کی ڈوری  باندھنے میں میری مدد کردیں۔

میں حیران رہ گیا کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں چھپا ہوا تھا اور اسے برہنہ دیکھ رہا تھا۔

میں نے کہا ۔۔۔سوری آشا میں تمہیں  دیکھنے کے لالچ  سے خود کو نہیں روک سکا۔

 اس نے کہا ۔۔۔میں نے آپ کو  آئینے میں پردے کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

 اب دونوں کی جھجک دور ہو گئی تھی اور میں آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا اور اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے ڈوریوں  کو ڈھونڈنے کی کوشش کی اور اس طرح کرتے میں  نے آہستہ سے اس کی ہموار کمر کو چھوا اور اُس پر ہلکا سا ہاتھ پھیرا۔میرا ہاتھ ننگی کمر پر لگتے ہی  اُس کے جسم نے ہلکی سی پھریری لی،  بلاؤز کی ڈوریاں  اس کی چھاتیوں کے اندر کی طرف چپکی ہوئی تھی۔

 میں نے کہا۔۔۔ مجھے ڈوریا نہیں مل رہی۔

آشادھیمی آواز میں بولی ۔۔۔آپ  ان کو ڈھونڈ کر باندھ دیں۔

اس وقت میرا لنڈ بالکل سخت ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے میرا تولیہ ڈھیلا ہو گیا۔ لیکن اس وقت میرا دھیان تولیے پر نہیں تھا،  میں نے بلاؤز کو باندھنے کے لیے ڈوریں ڈھونڈنا شروع کر دیں۔ میں نے اس کی ہموار کمر پر ہاتھ پھیرے اور پھر اپنے ہاتھ اس کے بریزر کے اندر داخل کیے، وہاں میں نے ہلکے سے اس کے مضبوط گول مموں  کو چھوا،  اور اس دوران مجھے ڈوریں نظر آئیں لیکن میں نے انہیں کھینچا نہیں، بلکہ اپنے ہاتھوں کو اس کی مموں  پر چلنے دیا اور میرا اس طرح سے کرنے سے میرے  مظبوط ہاتھوں کو اپنے مموں پر محسوس کر کے آشا نے ایک دھیمی آہ بھری،اور اُس کا جسم تھرتھرا اُٹھا۔ پھر میں نے ان ڈوریوں کو پکڑ کر کھینچا ۔

پھر میں نے کہا۔۔۔آشا، پلیز زرا میری طرف مڑو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم اس طرح دلہن کے لباس میں کیسی دکھتی ہو۔

  وہ شرماتے ہوئے  دھیرے دھیرے مڑی ، اور پوری طرح مڑکر  میری طرف اپنا رُخ  کر لیا،  اس کا چہرہ اور سر اس کی سرخ ساڑھی کے پلو سے ڈھکا  ہوا تھا۔

میں نے آگے بڑھ کر اس کا پلو  ہٹایا اور کہا۔۔۔اُفففف ۔۔ آشا۔۔ تم دلہن کی طرح خوبصورت لگ رہی ہو۔کاش  تم شادی سے پہلے  مجھے ملتی۔

 میں نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور اسے بطور تحفہ دی۔ پھر میں نے آگے بڑھ کر اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اس کا چہرہ اٹھایا اور اس کی آنکھیں شرم کے مارے  بند تھیں۔ اُس کے ہونٹ ہلکے ہلکے لرز رہے تھے،وہ صابن اور کاسمیٹکس کی تازہ خوشبوں میں بسی ہوئی  تھی۔ میں نے اس کی ٹھوڑی اٹھائی اور اُس کے چہرے کی دلکش مہک سونگتے ہوے اپنے ہونٹ اُس کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے پا س لے گیا۔

میرے ہونٹوں نے جیسے ہی اُس کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کا ایک ہکا سا بوسا لیا ، اُس کی سانسیں اور بھاری ہوگئی اور اُس کا جسم پورا کا پورا لرزنے لگا۔ ۔ وہ بے چین سی ہوگئی ، اور اُس کے ہاتھ کانپتے ہوئے ہلکا سا اُٹھے اور پھر سے نیچے ہوگئے۔میں نے پھر دھیرے سے اُس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور ہلکا ہلکا چوسنے لگا۔ ۔ وہ پوری جان سے کانپ اُٹھی ، اُس کا چہرہ شہوت اور جذبات سے لال سُرخ ہوگیا۔ جس طرح اس نے میرے کس کرنے  پر ردعمل کا اظہار کیا، مجھے شک ہوا کہ اس کے شوہر نے کبھی  بھی اسے اتنے پیار سے نہیں چوما ہوگا۔

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)