ماسٹر جی اور ابو

0

 

آج ماسٹر جی نے ٹیسٹ لیا۔50 میں سے 26 نمبر آئے۔ماسٹر جی نے کہا کہ،

جس جس کے 35 سے کم نمبر ہیں وہ کھڑی ہوجائے۔ اور دیوار کی طرف منہ کر کے مرغی بن جائے۔پھر 15 منٹ مرگی بنے رہنے کے بعد ماسٹر جی نے ساری لرکیوں کی سکرٹ اور کروا کے انڈر ویئر اتار دیا۔ اور پھر جس کے جتنے نمبر کم تھے اسکی اتنے سکیل بنڈ پر پڑے۔

پھر ماسٹر جی نے سیدھا کھڑا کر کے شرٹ آگے سے کھلوائی اور بریزر اتار کر ہاتھ اوپر کروا کے اتنے ہی دنڈے دونون مموں پر مارے۔ ممے خوب ہلے۔

 

پھر ہمارے ابوں کو فون کر کے بلوایا۔ اور انسے بات کی۔ ابو بولے بہت نالائق ہے۔گھر میں بھی نہیں پرھتی۔ روزانہ چوت ننگی کر کے مارا کو۔

پھر ماسٹر جی نے آفس میں بلوا کر کنڈی لگائی۔ابو نے مجھے پکڑ کر اپنی گود میں الٹا لٹایا۔ اور چوت ننگی کر کے ماسٹر جی سے کہا ہو جا شروع۔ پھر ماسٹر نے سہی والی چوت دندے سے بجائی۔

پھر ابو نے سیدھا کر کے مموں پہ بھی مروایا۔

پھر ماسٹر نے ابو کو آنکھ ماری اور ابو نے مجھے فل ننگا کر کے میرا پچھوارہ ماستر کے سامنے کیا۔ اور سوراخ کھول دیا۔ پھر ماسٹر نے اپنا لن نکال کر ابو کی ہی گود میں پھدی چودی اور بند ماری۔ پھر ابو نے بھی بند ماری۔ خود بھی ممے چوسے اور ماسٹر کو بھی چوسائے۔

پھر اب روز ابو کے کہنے پے ماسٹر جی پورے نمبر انے پر بھی چوت ننگی کر کر مارتے ہیں۔

ویسے سہی کرتے ہیں۔ اویں کافی بگڑ جاتا ہے بندا۔


Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)